اُڈپی:17/ دسمبر(ایس اؤنیوز)زندگی نعشوں کا نوحہ کررہی ہے ، نفرت کی آگ میں بے رحیمانہ قتل کے معاملات میں اضافہ ہورہاہے، ڈاکٹر بی آر امبیڈکرکی قیادت میں تشکیل کردہ ملکی دستور میں ہرایک شہری کو رائے (ووٹ) دینے کا حق عطا کیا گیا ہے جس کے معنی یہی ہیں کہ ہر ایک کو مساوی حق دیا گیا ہے۔ جب تک ہرایک کو سماجی مساوات حاصل نہیں ہوتی تب کہ مساوات کا تحفظ ممکن نہیں ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا کے قومی صدر نہاس مالا نےکیا۔
وہ یہاں اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی اؤ) اُڈپی ضلع کے زیر اہتمام ’’کئی مذاہب۔ایک بھارت‘‘ کے عنوان پر یک جہتی پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے خطاب کررہے تھے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عالمی حالات کے مطابق بھارت میں بھی ایک طرح سے تشدد کا ماحول تعمیر کیا جارہاہے، آج جمہوریت کے نام پر تشہیری کام کئے جارہے ہیں، دستور کے اصل منشاء کو نظر انداز کئے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ عوامی رائے بنانے کے لئے سچائی کا رول کم ہورہاہے، جھوٹ کی بنیاد پر عوامی رائے تشکیل دی جارہی ہے ، لیڈران کی تبدیلی سے کچھ ہونے والا نہیں ہے ، ذہنیت کی تبدیلی پر انہوں نے زور دیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہال میں جمع ہمہ مذاہب سے وابستہ کثیر تعداد سے یک جہتی اور مساوات کی بنیاد پر متحد ہونےکی اپیل کی۔
سنئیر صحافی ،مفکر شیو سندر نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دوسروں کے غم کو اپنا غم سمجھنا دھرم ہے، سیاست کے نام پر نفرت و دشمنی کو پھیلانا دھرم نہیں ہے۔ مذہب انسان کو انسان بناتاہے، اعلی ٰ ہونے کا تصور موت کے مترادف ہے ،دھرم اور زبان کی بنیاد پر کسی ملک کی تعمیر ممکن نہیں ہونے کی بات کہی۔ ملک کی تعمیر عوامی قبولیت اور تعاون سے ہونے کی بات کہی۔
فادر ڈیوڈ ایف نرمانک نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم ہمیشہ دوسروں کے بدلنے کی بات کرتے ہیں خود اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جب ہم اپنی ذات سے تبدیلی کی شروعات کرتے ہیں تو دنیا بدلنے کی بات کہی۔
شانتی پرکاشن کے مینجر محمد کوئیں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ آج غنڈے سیاسی لیڈر کے طورپر ابھررہے ہیں۔ اکثریت میں وحدت اس ملک کی طاقت ہے، مگر آج اسی تکثریت کے متعلق بات کرنا بھی جرم ہونے کے جیسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں۔
محمد کوئیں نےکہاکہ فاشسزم ایک ظالمانہ نظریہ ہے، مذاہب سے پیار و محبت کا پیغام پھیلتاہےنفرت کا نہیں۔ کوئی اگر مذہب کے نام پر نفرت کی بات کرتاہے تو وہ مذہب نہیں ہے ، تفریق و تعصب کو دور کرنے کی ضرورت ہے ، انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے ہمارے باطن کوپاکیزہ کرنا لازمی ہے۔ اے پی جے عبدالکلام سائنسی نمائش میں قومی ایوارڈ پائے دسویں کے طالب علم امان ساستان کی پروگرام میں تہنیت کی گئی ۔
ریاستی صدر محمد رفیق بیدر نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایس آئی اؤ کی طرف سے ملک بھر میں ایک سال تک کئی مذاہب ایک بھارت کے عنوان سے مہم منائی جارہی ہے۔ مہم کا اصل مقصد ملک کی تکثریت کی حفاظت کرتے ہوئے بھائی چارگی کو فروغ دینا ہے۔
پرمیشور میستا اور افرازل خان کے لئے پروگرام میں ایک منٹ تک خاموش دعا کی گئی ۔
ایس آئی اؤ کے ریاستی سکریٹری دانش نے استقبا ل کیاتو شعیب ملپے نے شکریہ اداکیا۔ جماعت اسلامی ہند کرناٹکا کے ناظم علاقہ اکبر علی اُڈپی ، ناظم ضلع شبیر ملپے موجود تھے ۔ اُڈپی ضلعی صدر یسین کوڑی بینگرے نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔